وویجر 1:
انسان کا وہ خلائی مسافر جو 49 سال بعد بھی نامعلوم دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے
کبھی کبھی انسان اپنے گھر سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ واپسی کا تصور بھی ممکن نہیں رہتا۔ وویجر 1 بھی انسان کی ایسی ہی حیران کن کوشش کی کہانی ہے۔
یہ ایک چھوٹا سا خلائی جہاز ہے جسے انسان نے تقریباً نصف صدی قبل زمین سے روانہ کیا تھا۔ اس وقت شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ یہ مشن چند سال کی بجائے کئی دہائیوں تک زندہ رہے گا، مشتری اور زحل کے قریب سے گزرے گا، نظامِ شمسی کی بیرونی حدود عبور کرے گا اور آخرکار ستاروں کے درمیان موجود خلا میں داخل ہوجائے گا۔
آج وویجر 1 زمین سے اربوں کلومیٹر دور، خاموشی سے خلا میں سفر کر رہا ہے۔ NASA کے مطابق یہ اب تک انسان کی بنائی ہوئی سب سے دور پہنچنے والی شے ہے۔
وویجر 1 کب خلا میں بھیجا گیا؟
وویجر 1 کو 5 ستمبر 1977 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے Titan IIIE-Centaur راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وویجر 1، وویجر 2 کے بعد خلا میں بھیجا گیا تھا۔ وویجر 2 کو 20 اگست 1977 کو لانچ کیا گیا تھا، لیکن وویجر 1 کو ایک زیادہ تیز راستے پر بھیجا گیا، جس کی وجہ سے وہ اپنے جڑواں خلائی جہاز سے پہلے مشتری اور زحل تک پہنچ گیا۔
اس مشن کا ابتدائی مقصد یہ نہیں تھا کہ وویجر 1 ہمیشہ کے لیے خلا میں سفر کرتا رہے گا۔ اسے بنیادی طور پر مشتری اور زحل کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
لیکن سائنسدانوں نے جو کچھ وہاں دیکھا، اس نے مشن کو ایک نئی زندگی دے دی۔
مشتری کے قریب ایک تاریخی سفر
وویجر 1 نے 5 مارچ 1979 کو مشتری کے قریب سے گزر کر اس دیوہیکل سیارے کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔
اس نے مشتری کے بادلوں، ماحول، مقناطیسی میدان اور اس کے چاندوں کی ہزاروں تصاویر زمین پر بھیجیں۔ اسی مشن کے دوران مشتری کے گرد موجود ایک باریک حلقہ بھی دریافت کیا گیا۔
وویجر 1 نے مشتری کے دو نئے چاند بھی دریافت کیے جنہیں بعد میں Thebe اور Metis کا نام دیا گیا۔
یہ دریافتیں اس دور میں انتہائی اہم تھیں کیونکہ اس وقت انسان نے کسی خلائی جہاز کو اتنی دور بھیج کر کسی بڑے سیارے کا اتنا تفصیلی مشاہدہ نہیں کیا تھا۔
پھر زحل کی طرف روانگی
مشتری کی کششِ ثقل نے وویجر 1 کے راستے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور خلائی جہاز زحل کی طرف بڑھ گیا۔
12 نومبر 1980 کو وویجر 1 زحل کے قریب سے گزرا۔
زحل کے مشاہدے کے دوران اس نے اس سیارے کے حلقوں اور چاندوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل کیں۔ وویجر 1 نے زحل کے پانچ نئے چاند دریافت کیے اور ایک نئے حلقے کی نشاندہی بھی کی۔
لیکن زحل کے سب سے اہم چاندوں میں سے ایک Titan تھا۔
وویجر 1 کو Titan کے قریب سے اس طرح گزارا گیا کہ اس کی کششِ ثقل نے خلائی جہاز کا راستہ ہمیشہ کے لیے نظامِ شمسی کے سیاروں کے مداروں سے اوپر کی سمت موڑ دیا۔
یہی فیصلہ بعد میں وویجر 1 کو ایک ایسے سفر پر لے گیا جہاں اس سے پہلے انسان کی بنائی ہوئی کوئی شے نہیں پہنچی تھی۔
زمین کی طرف آخری نظر — Pale Blue Dot
وویجر 1 کی کہانی کا سب سے جذباتی باب شاید وہ تصویر ہے جو اس نے زمین کی بنائی۔
1990 میں جب وویجر 1 تقریباً 40 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پہنچ چکا تھا، سائنسدان کارل سیگن کی درخواست پر خلائی جہاز نے اپنے کیمرے کا رخ واپس زمین کی طرف کیا۔
اس نے زمین کو بے حد دور سے ایک نہایت چھوٹے سے نقطے کی شکل میں تصویر میں قید کیا۔
یہ تصویر بعد میں “Pale Blue Dot” کے نام سے مشہور ہوئی۔
وہ چھوٹا سا نقطہ دراصل ہمارا پورا گھر تھا—تمام سمندر، پہاڑ، شہر، جنگیں، سلطنتیں، محبتیں، نفرتیں اور اربوں انسان اسی ننھے سے نقطے پر آباد تھے۔
اس کے بعد وویجر 1 کے کیمرے بند کردیئے گئے تاکہ اس کی محدود توانائی سائنسی آلات اور مواصلاتی نظام کے لیے محفوظ رکھی جاسکے۔ NASA کے مطابق وویجر مشنز نے مجموعی طور پر تقریباً 67 ہزار تصاویر حاصل کیں۔
وویجر 1 نے نظامِ شمسی کی حد کیسے عبور کی؟
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ وویجر 1 “نظامِ شمسی سے باہر” نکل گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوراً سورج کی کششِ ثقل سے مکمل طور پر آزاد ہوگیا۔
سورج کے گرد ایک بہت بڑا خطہ ہے جسے Heliosphere کہا جاتا ہے۔ سورج سے نکلنے والی شمسی ہوا اور مقناطیسی میدان اس وسیع علاقے کو بناتے ہیں۔
وویجر 1 نے 25 اگست 2012 کو اس خطے کی بیرونی حد، یعنی heliopause، عبور کی اور بین النجمی خلا میں داخل ہوا۔
اس طرح یہ انسان کی بنائی ہوئی پہلی شے بن گئی جو interstellar space تک پہنچی۔
اب وویجر 1 کہاں ہے؟
وویجر 1 اب زمین سے ناقابلِ تصور فاصلے پر ہے۔
NASA کے مطابق یہ تقریباً 3.5 فلکیاتی اکائیوں فی سال کی رفتار سے نظامِ شمسی سے باہر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک فلکیاتی اکائی زمین اور سورج کے درمیان اوسط فاصلے کے برابر ہے، یعنی تقریباً 150 ملین کلومیٹر۔
NASA کے موجودہ تخمینے کے مطابق 18 نومبر 2026 کو وویجر 1 زمین سے تقریباً ایک light-day کے فاصلے تک پہنچ جائے گا۔ ایک light-day وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک دن میں طے کرتی ہے—تقریباً 25.9 ارب کلومیٹر۔
یہ ایک حیرت انگیز سنگِ میل ہوگا۔
یعنی اگر وویجر 1 سے آنے والا ریڈیو سگنل اس وقت زمین کی طرف روانہ ہو تو اسے ہم تک پہنچنے میں تقریباً ایک دن لگے گا۔
کیا وویجر 1 آج بھی کام کر رہا ہے؟
ہاں، لیکن اب یہ اپنے ابتدائی دور جیسا فعال نہیں ہے۔
تقریباً 49 سال خلا میں گزارنے کے بعد اس کے پاس توانائی محدود ہوتی جارہی ہے۔ وویجر 1 میں Radioisotope Thermoelectric Generators یعنی RTGs استعمال کیے گئے تھے، جو تابکار مادے کی حرارت کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے۔
اسی لیے NASA کے انجینئرز مختلف سائنسی آلات کو باری باری بند کر رہے ہیں تاکہ خلائی جہاز کے اہم نظام زیادہ عرصے تک چلتے رہیں۔
مثلاً 17 اپریل 2026 کو NASA نے وویجر 1 کا Low-Energy Charged Particles instrument بند کردیا تاکہ توانائی بچائی جاسکے۔
اب بھی اس کے کچھ سائنسی آلات کام کر رہے ہیں، جن میں Magnetometer اور Plasma Wave System شامل ہیں۔
زمین سے رابطہ کیسے رہتا ہے؟
یہ شاید وویجر 1 کی سب سے حیران کن خصوصیات میں سے ایک ہے۔
اربوں کلومیٹر دور موجود یہ چھوٹا سا خلائی جہاز اب بھی زمین پر سگنلز بھیج سکتا ہے۔
NASA کا Deep Space Network زمین پر موجود طاقتور ریڈیو اینٹیناز کا ایک عالمی نیٹ ورک ہے جو وویجر جیسے دور دراز خلائی جہازوں سے رابطہ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن اتنے فاصلے پر رابطہ آسان نہیں۔
وویجر 1 سے آنے والا سگنل زمین تک پہنچتے پہنچتے انتہائی کمزور ہوچکا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود تقریباً نصف صدی پرانا یہ خلائی جہاز اب بھی انسان سے بات کر رہا ہے۔
وویجر کے ساتھ ایک پیغام بھی بھیجا گیا
شاید وویجر 1 کی سب سے خوبصورت خصوصیت اس کے ساتھ موجود Golden Record ہے۔
یہ ایک تقریباً 30 سینٹی میٹر قطر کی gold-plated copper disc ہے جس پر زمین اور انسانی تہذیب کے بارے میں معلومات محفوظ کی گئی ہیں۔
اس میں مختلف زبانوں میں سلام، زمین کے قدرتی اور انسانی ماحول کی آوازیں، موسیقی اور زمین پر زندگی کی عکاسی کرنے والی تصاویر شامل ہیں۔
اس میں 55 زبانوں میں سلام، زمین کی مختلف آوازیں، تقریباً 90 منٹ کی موسیقی اور 115 تصاویر شامل ہیں۔
یہ ریکارڈ بنیادی طور پر انسان کی طرف سے کائنات کے نام ایک خاموش پیغام ہے:
ہم یہاں ہیں۔ یہ ہماری دنیا ہے۔
کیا وویجر کسی دوسرے سیارے یا ستارے تک پہنچے گا؟
یہاں ایک دلچسپ حقیقت ہے۔
وویجر 1 کسی مخصوص دوسرے ستارے تک پہنچنے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ وہ مسلسل خلا میں آگے بڑھتا رہے گا۔
NASA کے مطابق تقریباً 40 ہزار سال بعد وویجر 1 کسی دوسرے ستارے کے نسبتاً قریب سے گزر سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس ستارے کے گرد چکر لگائے گا یا وہاں اترے گا۔
اس کے لیے ابھی انسانی تاریخ سے کہیں زیادہ طویل وقت درکار ہے۔
وویجر 1 ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
وویجر 1 کی سب سے بڑی کہانی صرف خلائی سائنس کی نہیں بلکہ انسانی تجسس کی بھی ہے۔
1977 میں جب اسے خلا میں بھیجا گیا تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ تقریباً پانچ سال کے لیے بنایا گیا یہ مشن تقریباً نصف صدی تک کام کرے گا۔
اس نے مشتری اور زحل کے بارے میں ہماری معلومات بدل دیں۔
اس نے ہمیں زمین کی ایک ایسی تصویر دکھائی جس نے انسان کو پہلی بار اپنے سیارے کو کائناتی تناظر میں دیکھنے پر مجبور کیا۔
اور پھر اس نے heliosphere کی حد عبور کرکے ستاروں کے درمیان موجود خلا میں قدم رکھا۔
آج بھی یہ خاموشی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
نہ اسے معلوم ہے کہ منزل کہاں ہے، نہ کوئی انسان اس میں سوار ہے، نہ کوئی راستہ دکھائی دیتا ہے۔
پھر بھی یہ سفر جاری ہے۔
شاید وویجر 1 کی سب سے خوبصورت علامت یہی ہے کہ انسان نے اپنے گھر سے ایک چھوٹی سی مشین کائنات کی وسعتوں میں بھیجی، صرف اس لیے کہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ہمارے نظامِ شمسی کے باہر کیا ہے۔
اور تقریباً نصف صدی بعد بھی اس سوال کا سفر ختم نہیں ہوا۔
وویجر 1 اب بھی جا رہا ہے۔


0 Comments