ناکامیوں کا بادشاہ یا کامیابی کا جادوگر؟
دنیا میں کچھ لوگ ناکامی سے گھبرا کر راستہ بدل لیتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ناکامی کو ہی اپنا استاد بنا لیتے ہیں۔ تھامس ایڈیسن کا شمار دوسری قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ شخص جس نے اندھیروں سے لڑنے کا فیصلہ کیا، مگر اندھیروں نے بھی اسے آسانی سے ہار ماننے نہیں دی!
جب بلب نہ جلا تو دماغ روشن ہوگیا!
مشہور روایت کے مطابق، ایڈیسن نے بجلی کے بلب کو کامیاب بنانے کے لیے ہزاروں تجربات کیے۔ ہر بار ناکامی ملتی تو لوگ شاید کہتے، ’’صاحب! اب تو بس کریں، بلب جلنے والا نہیں!‘‘
لیکن ایڈیسن کا انداز ہی نرالا تھا۔ ان کے نام سے منسوب ایک مشہور قول کا مفہوم ہے:
’’میں ناکام نہیں ہوا، بلکہ میں نے ایسے ہزاروں طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے!‘‘
گویا دوسرے لوگ ناکامی کا ماتم کر رہے تھے اور ایڈیسن اپنی معلومات میں اضافہ کر رہے تھے!
ذرا تصور کیجیے، اگر ایڈیسن آج کے دور میں ہوتے تو شاید ہر ناکام تجربے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ لگاتے:
پہلا تجربہ: بلب نہیں جلا، مگر امید روشن ہے!
دوسرا تجربہ: پھر ناکامی! لگتا ہے بلب مجھ سے ناراض ہے۔
سوواں تجربہ: بلب اب بھی نہیں جلا، لیکن تجربات کا ریکارڈ ضرور روشن ہوگیا!
ہزارواں تجربہ: لوگ مجھے پاگل سمجھتے ہیں، مگر تاریخ ابھی فیصلہ نہیں کر پائی!
آخری سبق: دوسروں کے لیے یہ ناکامی ہے، میرے لیے اگلے تجربے کی تیاری!
ایڈیسن کی اصل کامیابی کیا تھی؟
ایڈیسن کی عظمت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ انہوں نے بجلی کے بلب کو عملی طور پر کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ ان کی اصل خوبی مسلسل محنت، تجربات اور غلطیوں سے سیکھنے کا جذبہ تھا۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھی بھی جانتے تھے کہ تجربہ ناکام ہو سکتا ہے، مگر اس سے حاصل ہونے والا سبق ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ کامیابی اکثر ایک ہی کوشش میں نہیں ملتی۔ کبھی راستہ بدلنا پڑتا ہے، کبھی طریقہ، اور کبھی اپنی سوچ۔
آخری بات: بلب جلانے سے پہلے خود روشن ہوں!
زندگی میں جب کوئی منصوبہ ناکام ہو، کاروبار نہ چلے، امتحان میں نمبر کم آئیں یا محنت کا نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلے تو خود کو ناکام انسان سمجھنے کے بجائے اپنی کوشش کا جائزہ لینا چاہیے۔
ناکامی یہ نہیں کہ آپ کا بلب نہیں جلا؛ اصل ناکامی یہ ہے کہ آپ نے اندھیرے کو اپنی قسمت سمجھ لیا۔
اور ہاں، ہر ناکامی کو کامیابی قرار دینا بھی عقل مندی نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ غلطی کو پہچانیں، اس سے سیکھیں اور بہتر طریقے سے دوبارہ کوشش کریں۔
کیونکہ دنیا میں چراغ روشن کرنے والے اکثر وہی لوگ ہوتے ہیں جو اندھیروں سے شکایت کرنے کے بجائے روشنی پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں!


0 Comments