۔ وہ شہر جو تباہ ہو کر بھی زندہ رہا — پومپئی کا آخری دن
تقریباً دو ہزار سال پہلے اٹلی میں ایک خوشحال رومی شہر آباد تھا: پومپئی۔ شہر میں بازار، حمام، تھیٹر، عبادت گاہیں اور خوبصورت گھر تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کی روزمرہ زندگی تاریخ کے ایک خوفناک ترین قدرتی سانحے میں محفوظ ہونے والی ہے۔
پومپئی کے قریب ماؤنٹ ویسوویئس نامی آتش فشاں موجود تھا۔ 63 عیسوی میں ایک شدید زلزلے نے شہر کو نقصان پہنچایا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگ دوبارہ معمول کی زندگی میں واپس آگئے۔
پھر 79 عیسوی میں وہ دن آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔
ویسوویئس پھٹ پڑا۔ ابتدا میں راکھ اور آتش فشانی پتھر آسمان سے برسنے لگے۔ کئی لوگوں کو شہر سے نکلنے کا موقع ملا، لیکن جو لوگ وہیں رک گئے، ان کے لیے حالات تیزی سے خوفناک ہوتے گئے۔ چھتیں راکھ کے وزن سے گرنے لگیں اور ہوا سانس لینے کے قابل نہ رہی۔
اس کے بعد آتش فشانی گیس، راکھ اور انتہائی گرم مواد کے تیز رفتار بہاؤ نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پومپئی اور قریبی ہرکولینیم دفن ہوگئے۔
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ تباہی نے شہر کو مکمل طور پر مٹانے کے بجائے اسے صدیوں کے لیے محفوظ کر دیا۔
گھر، دیواروں پر بنے نقش و نگار، دکانیں، سڑکیں، برتن اور روزمرہ زندگی کی بے شمار نشانیاں آتش فشانی مواد کے نیچے محفوظ رہیں۔ صدیوں تک لوگ اس بھولی ہوئی دنیا سے بے خبر رہے، یہاں تک کہ 18ویں صدی میں کھدائی شروع ہوئی۔
سبق:
کبھی کبھی تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے سب سے خوفناک تباہی ہی کافی ہوتی ہے۔ پومپئی ختم ہوگیا، مگر اسی تباہی نے اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔


0 Comments