دنیا کی سب سے لمبی لوہے کی دیوار

 جب آسٹریلیا نے بھیڑوں کو بچانے کے لیے 5,600 کلومیٹر لمبی باڑ کھڑی کر دی



​جب ہم دنیا کی عظیم اور لمبی دیواروں کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں فوری طور پر "دیوارِ چین" کا خیال آتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسی باڑ (Fence) بھی موجود ہے جو لمبائی میں چین کی دیوار سے کم نہیں اور اسے انسانوں نے کسی دشمن فوج کو روکنے کے لیے نہیں، بلکہ بھیڑوں کو جنگلی کتوں یعنی ڈیگو (Dingo) سے بچانے کے لیے تعمیر کیا تھا؟

​اسے دنیا "ڈیگو فینس" (Dingo Fence) یا "ڈاگ فینس" (Dog Fence) کے نام سے جانتی ہے۔

​یہ باڑ کتنی لمبی ہے؟

​اس باڑ کی کل لمبائی تقریباً 5,614 کلومیٹر (3,488 میل) ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو:

​یہ چین کی مشہور دیوارِ چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے لمبا ماحولیاتی یا تحافطی ڈھانچہ ہے۔

​یہ اتنی لمبی ہے کہ لندن سے لے کر نیویارک تک کے فاصلے کو آسانی سے کور کر سکتی ہے۔

​یہ باڑ آسٹریلیا کے جنوب مشرقی حصے کو باقی ملک سے الگ کرتی ہے تاکہ بھیڑوں کے گلہ بانوں (Farmers) کو جنگلی درندوں کے نقصان سے بچایا جا سکے داؤد اور جنوبی آسٹریلیا سے ہوتی ہوئی کوئینز لینڈ کے وسط تک پھیلی ہوئی ہے۔

​اس باڑ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

​19ویں صدی میں جب آسٹریلیا میں بھیڑ پالنے کی صنعت (Sheep Farming) عروج پر پہنچی، تو کسانوں کو سب سے بڑا خطرہ آسٹریلیا کے مقامی جنگلی کتوں "ڈیگو" سے محسوس ہوا۔ ڈیگو گروہوں کی شکل میں حملے کرتے اور راتوں رات بھیڑوں کے پورے ریوڑ کو تباہ کر دیتے تھے۔

​اس معاشی نقصان سے بچنے کے لیے 1880ء کی دہائی میں پہلے خرگوشوں کو روکنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر باڑیں لگائی گئیں، لیکن بعد میں 1900ء کی دہائی کے اوائل میں ان تمام باڑوں کو ملا کر ایک وشال (مسلسل) باڑ کی شکل دے دی گئی تاکہ ڈیگو بھیڑوں کے زرخیز علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔

​باڑ کا نظام اور دیکھ بھال

​اتنی بڑی باڑ کو برقرار رکھنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔

​نگرانی: باڑ کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی پیٹرولنگ ٹیمیں اور "بارڈر پیٹرول" کی طرح کے گارڈز تعینات ہیں جو گاڑیوں اور اونٹوں پر روزانہ اس کا معائنہ کرتے ہیں۔

​سخت قوانین: اگر باڑ کا کوئی حصہ طوفان، سیلاب یا جنگلی جانوروں کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو اسے فوری طور پر دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے۔

​لائٹ اور سینسرز: جدید دور میں باڑ کے کچھ حصوں پر سولر پینل، روشنیاں اور سینسرز بھی لگائے گئے ہیں تاکہ درندوں کو دور رکھا جا سکے۔

​انسان بمقابلہ قدرت: نتائج اور تنازعات

​اس باڑ نے جہاں آسٹریلیا کی بھیڑ پالنے کی صنعت کو اربوں ڈالر کے نقصان سے بچایا اور بھیڑوں کی آبادی کو محفوظ بنایا، وہیں اس کے کچھ منفی ماحولیاتی اثرات بھی سامنے آئے:

​ایکولوجیکل توازن بگڑنا: باڑ کے ایک طرف (جہاں ڈیگو نہیں ہیں) خرگوشوں اور کینگروؤں کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی، کیونکہ ان کا شکار کرنے والا کوئی قدرتی درندہ موجود نہیں رہا۔

​زمین کی بنجرہٹ: کینگروؤں اور خرگوشوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے چرنے کے تمام علاقے تباہ ہو گئے اور نباتات کم ہونے لگیں۔

​ایک انسانی شاہکار

​ڈیگو فینس اس بات کی بہترین مثال ہے کہ انسان اپنی معاشی ضرورتوں اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔ 5,600 کلومیٹر سے زائد لمبی یہ باڑ آج بھی آسٹریلیا کی تاریخ، زراعت اور جغرافیہ کا ایک انتہائی اہم اور حیران کن حصہ ہے

Post a Comment

0 Comments