دنیا میں جنگیں ہمیشہ میزائلوں اور بموں سے نہیں لڑی جاتیں۔ کبھی کبھی بینک، تیل، تجارت اور پابندیاں بھی ہتھیار بن جاتے ہیں۔ آج امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اسی خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت معاشی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے "Economic D-Day" کا نام دیا ہے۔ واشنگٹن کا مقصد صرف ایران پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ اس کی معاشی زندگی کی اہم رگوں کو محدود کرنا ہے۔ امریکی حکام نے مزید سخت پابندیوں کی تیاری کا بھی عندیہ دیا ہے۔
مگر ایران بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں
تہران نے امریکی دھمکیوں کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ نئی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کریں گے، جبکہ کسی مزید دباؤ کا جواب دینے کی بھی دھمکی دی گئی ہے۔
یہاں اصل مسئلہ صرف امریکا اور ایران نہیں۔ اصل خطرہ عالمی معیشت کے لیے ہے۔
ایران کے تیل کی عالمی تجارت پہلے ہی متاثر ہو رہی ہے اور چین کو ایرانی تیل کی پیشکشیں کم ہونے کے ساتھ قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
پھر آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
دنیا کے نقشے پر ایک نسبتاً چھوٹی سی سمندری گزرگاہ ہے، مگر اس کی اہمیت پوری دنیا سے کہیں بڑی ہے: آبنائے ہرمز۔
یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی میں یہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 21 اگست کو صرف سات کموڈیٹی بحری جہازوں کے گزرنے کی اطلاع ملی، جو گزشتہ دن کے مقابلے میں تقریباً نصف تھی۔
سوچیے، اگر یہ راستہ طویل عرصے تک متاثر رہا تو کیا ہوگا؟
تیل مہنگا ہوگا، شپنگ کے اخراجات بڑھیں گے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ آئے گا، اور مہنگائی کا اثر دنیا کے ان ممالک تک بھی پہنچ سکتا ہے جن کا ایران یا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
یعنی تہران میں ہونے والا ایک فیصلہ اسلام آباد، بیجنگ، دہلی، لندن اور واشنگٹن کے عام شہری کی جیب تک پہنچ سکتا ہے۔
امریکا کا دباؤ، ایران کی مزاحمت
واشنگٹن سمجھتا ہے کہ شدید معاشی دباؤ ایران کو اپنے رویے میں تبدیلی پر مجبور کرسکتا ہے۔ لیکن ایران کئی دہائیوں سے پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور اس نے متبادل تجارتی راستے بھی پیدا کیے ہیں۔
اسی لیے بڑا سوال یہ ہے:
کیا نئی پابندیاں واقعی ایران کو جھکا دیں گی یا یہ کشیدگی کو مزید خطرناک بنا دیں گی؟
کیونکہ معاشی جنگ اکثر دو طرفہ نقصان کا باعث بنتی ہے۔ ایران کی معیشت دباؤ میں آتی ہے تو عالمی تیل کی منڈی بھی متاثر ہوتی ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے تو دنیا بھر میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ اور اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک مزید پھیلتی ہے تو مسئلہ صرف ایران اور امریکا کا نہیں رہے گا۔
پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ ہم خطے کا حصہ ہیں، ہماری معیشت پہلے ہی توانائی کی قیمتوں اور درآمدی بل کے دباؤ سے دوچار رہتی ہے۔ اگر عالمی تیل مزید مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر پاکستان کے پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور بالآخر روزمرہ استعمال کی اشیا پر پڑ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکا اور ایران کی لڑائی کو صرف ایک دور کی جنگ سمجھنا خطرناک غلطی ہوگی۔
یہ جنگ اگر معاشی محاذ پر مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے جائیں گے۔
اصل سوال ابھی باقی ہے
دنیا اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔
ایک طرف امریکا ہے جو ایران پر معاشی شکنجہ مزید سخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے، دوسری طرف ایران ہے جو مزاحمت کا اعلان کر رہا ہے، جبکہ درمیان میں عالمی تیل کی منڈی، خلیجی ممالک اور کروڑوں عام انسان کھڑے ہیں۔
اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو اگلا ہتھیار میزائل نہیں بلکہ تیل کی قیمت بھی ہوسکتی ہے۔
اور شاید آنے والے دنوں کا سب سے اہم سوال یہی ہوگا:
کون پہلے جھکے گا—واشنگٹن یا تہران؟
کیونکہ اس بار داؤ پر صرف دو ملک نہیں، پوری دنیا کی معیشت لگی ہوئی ہے۔


0 Comments